ہزار مہینوں سے افضل لیلتہ القدر

ہزار مہینوں سے افضل لیلتہ القدر

امت مسلمہ کے لیے عظیم تحفہ خداوندی

ِ”تقویٰ ایک ایسا جامع و صف ہے کہ اس میں تمام اعمال ِ صا لح کا شوق پیدا ہوتا ہے اور اعمال قبیح سے اجتناب “

ماہ طلعت نثار

” اے ایمان وا لو !تم پر روزے فرض کیے گئے ، جیسا کہ تم سے پہلے امتوں پر فرض کیے گئے تا کہ تم متقی بن جاﺅ “اس آیت کریمہ میں اللہ نے صرف ایمان والوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ تم پر روزے فرض کیے گئے

پھر یہ بھی فر ما یا کہ تم سے پہلے بھی روزے فرض تھے ۔حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ادوار میں بھی روزہ رکھنا ثابت ہے پھر روزے رکھنے کا مقصد بھی بتا دیا تا کہ تم متقی بن جاﺅ ۔

تقوٰی کیا ہے؟تقوٰی دل کی وہ کیفیت اور خوفِ خدا کا نام ہے کہ انسان ہر وہ کام کرے جو اللہ کی رضا کا با عث ہو اور ہر اس کام سے اجتناب کرے جو اللہ کی نارا ضی کا باعث ہو۔یعنی تقوٰی ایک ایسا جا مع وصف ہے کہ اس میں تمام اعمالِ صالح کا شوق پیدا ہو تاہے اور اعمال قبیحہ سے اجتناب شا مل ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ماہ رمضان میں مسلما نوں کے اندر دینی مزاج اور صبروتقوٰی پیدا کرنے کے لیے مخصوص دینی فضا ءپیدا ہو جاتی ہے اس ماہ کو نیکیوں کی فصل بہارقرار دیا جا سکتا ہے۔

روزے کے علا وہ دوسری عبا دات ظاہری حرکات سے ادا ہو تی ہیں۔مگر روزہ ایک ایسی عبادت ہے،جس کا تعلق باطن سے ہے یعنی سوائے اللہ تعا لیٰ کے کوئی نہیں جا نتا ۔ روزہ دار کے اس قدر خلوص بھرے جز بے کو دیکھ کر ہی اللہ نے فر ما یا ”روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی خود اس کی (بے حدو حساب) جزا دوں گا“ (حدیث قدسی) یہ مبا رک مہینہ حصول رضائے الہٰی اور خطا ئیں اور گناہ معاف کر وا نے کا مہینہ ہے ،اسی لیے حضورکا ارشاد ہے :”جس نے ایمان اور اجر کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور اس(کی راتوں )میں قیام کیا اس کے پہلے گناہ معاف کر دیے گئے۔“

اسی مبارک ماہ میں قرآن مجید فر قان حمید نا زل ہوا جو انسانیت کی فلاح و بقا کے لیے ایک مکمل ضا بطہ حیات پیش کرتا ہے۔ماہ رمضان میں لیلةالقدر امت مسلمہ کے لیے عظیم تحفہ ہے ۔لیلةالقدر کے متعلق اللہ

رب العزت نے قرآن کی ایک مختصر مگر جا مع سورةالقدر کا نزول فر مایا۔

اللہ تعا لیٰ نے اس سورة مبا ر کہ میں فرما یا :ترجمہ”بے شک ہم ہی نے اس قرآن کو شب قدر میں اتا را اور تمہیں کیا معلوم شب قدر کیا ہے ؟شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے اس میں فر شتے اور جبرا ئیل امین (زمین پر) آتے ہیں اپنے رب کے حکم سے ،ہر کام کے لیے سلا متی ہے طلوع فجر تک۔“

لیلة القدر کی وجہ تسمیہ بھی یہ ہے کہ اللہ رب العزت نے اس رات سب سے زیادہ قدر فر ما ئی ،اسی شب آخری آسما نی کتاب نا زل فر مائی ۔سورئہ دخان میں اسی رات کو مبا رک رات فر ما یا گیا ہے۔

تر جمہ :”ہم نے اسے ایک بر کت والی رات میں نازل کیا“

اس مبا رک رات میں عبادت کرنے کا ثواب ہزار مہینو ں کی را توں سے بہتر ہے یعنی 83سال4ماہ کی عبادت سے بہتر ہے۔

شب قدر امت مسلمہ کے لۓ تحفہ ربانی

رسولنے اپنی امت کی عمروں کو سابقہ امتوں کی نسبت مختصر خیال فرما یا جو کہ کثرت ِ اعمال صالحہ کے لےے نا کا فی تھیں۔اسی لےے اللہ تبارک و تعالیٰ نے شب قدر جیسی عظیم ، مقدس اور با برکت رات کا تحفہ عطا فر ما یا جو کسی اور امت کو نہیں ملا ۔یہ امت محمدی ﷺ کے لےے ایک بڑا اعزاز ہے۔

تلاشِ شب قدر

احاد یث مبارکہ کی روشنی میں یہ مقدس رات رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کر نے کا حکم ہے ۔حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ” شب قدر کو رمضان کے آخر ی عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔“

اس رات کا تعین نہیں کیا گیا یقینااس میں ایک حکمت یہ بھی ہے کہ مسلمان اس کی جستجو میں ہر رات اللہ کی زیادہ سے زیادہ عبادت کریں۔

حضور اکرم ﷺکا فرمان ہے جب شب قدر ہو تی ہے حضرت جبرائیل ِامین ؑفرشتوں کی ایک جماعت کے ساتھ نازل ہوتے ہیں اور ہر اس شخص کے لیے دعاکرتے ہیں جو کھڑ ے یا بیٹھے اللہ کا ذکرکر رہا ہو۔

علامات شب قدر

سید نا جابربن عبداللہ ؓسے روایت ہے کہ رسول پاک ﷺنے فرمایا

وہ (شب قدر) خوش گوار اور روشن رات ہے ،نہ گرمی والی اور نہ ٹھندی والی۔

یہ رات نہایت ہی صاف وشفا ف ہوتی ہے نہ بادل چھائے رہتے ہیں نہ بارش ہوتی ہے۔

اس رات چاند کھلاہوا ہوتاہے۔

یہ رات معتدل ہوتی ہے۔

پوری رات شیاطین کو آسمان کے تارے نہیں مار ے جاتے۔

آخری عشرہ کی عبادت

کیوں کہ لیلہ القد ر سب سے زیادہ مقدس اورقدر یافتہ رات ہے اس لےے اس مبا رک رات کی جا نے والی عبا دت بھی نہا یت امتیا زی ثواب کی حا مل ہیں ۔

حضرت عائشہ نے حضور پاک سے پوچھا اگر میں اس رات کو پا لوں تو کیا دعا ما نگوں ؟ آپ نے فر ما یا یہ دعا کیا کرو:

ترجمہ:”اے اللہ بے شک تو بہت معاف فر ما نے والا ہے ،معاف فر مانے کو پسند کر تا ہے ،پس تو مجھے بھی معاف فرما”

ام المو منین عائشہ ؓ فر ما تی ہیں:

رسو ل آخری عشرہ میں جتنی محنت کر تے ،اتنی کسی اور عشرے میںنہیں کرتے تھے ۔

دو سری روا یت میں ام المو منین حضرت عائشہ ؓفر ما تی ہیں:

جب آخری عشرہ دا خل ہو جا تا تو نبی کر یم اپنی چادر کس لیتے (عمل میں تیز ہو جا تے ) اور رات کو جا گتے اور اپنے گھر وا لو ں کو بھی بیدار کر تے ۔

شب قدر کے اعمال

نماز عشاءاور ترا ویح کے بعد نفل نما زوں کا حسب استطا عت اہتمام کریں ،ہر رکعت میں سورئہ فا تحہ کے بعد سو رةالقدر اور سورئہ اخلاص پڑ ھیں۔

نفل نماز کے بعد استغفار پڑھیں ۔

درود پاک پڑھیں ۔

کلمہ طیبہ اور کلمئہ تمجیدپڑھیں ۔

قرآن پاک کی تلاوت کریں ،خاص کر سورئہ یٰس،سو رئہ رحمان ،سورئہ فتح، سورئہ ملک اور وا قعہ کی تلا وت کر نا اف افضل ہے۔

ہمیں اللہ تعا لیٰ سے اپنے گنا ہون کی معا فی ،برا ئیوں سے بچنے کی التجا اور نار جہنم سے نجات پانے کی د عا ئیں کثرت سے کر نی چا ہےے نہ صرف اپنی ذات کے لےے بلکہ ساری امت مسلمہ کی دنیوی اوراخروی

کامیا بیوں اور ترقی کے لےے دعاکرنا ہما را فرض ہے ۔

یا اللہ ہمارے ملک کو اندرونی اوربیرو نی شرانگیزوں سے پاک کر دے ، ہمیں نیک ،متقی اور پر خلوص لو گو ں کی قیا دت نصیب فرما ۔اللہ تعا لیٰ ہمیں شبِ قدر میں زیا دہسے زیا دہ عبا دت کرنے کی تو فیق عطا فر ما ئے۔(آمین)

اپنا تبصرہ بھیجیں