صدقہ فطر کی ادئیگی کے اہم مسائل

صدقہ فطر کی ادئیگی کے اہم مسائل

فطرانے سے ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہو جاتا ہے اور عیدکی خوشیوں میں وہ بھی شامل ہو جاتے ہیں

مفتی تنویراحمد

صدقہ فطرادا کرنے سے جہاں ایک شرعی حکم کو پورا کرنے کا ثواب ملتا ہے وہاں اس کے کئی اور فائدے بھی ہیںجیسے صدقہ فطرروزوں کو پاک صاف کرنے کا ذریعہ ہے ۔روزے کی حالت میں جو فضول یا بیہودہ باتیں زبان سے نکلتی ہیں اس فطرانہ کی ادائی سے روزے ان چیزوں سے پاک ہو کر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایسے مقبول ہو جاتے ہیں کہ ان کی قبولیت میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوتی ۔اسی طرح صدقہ فطرسے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پو شاک کا انتظام ہو جاتا ہے اور عید کی خوشیوں میں ان کو بھی شامل کر لیا جاتا ہے ۔اس کی ادائی سے اللہ تعالیٰ مال اور رزق میں برکت اور کام یابی عطافرماتے ہیں۔اس لیے بعض بزرگوں نے فرمایا کہ اگر مسئلہ کی رو سے کسی پر صدقہ فطرکے فضائل اور فوائد کو سامنے رکھ کر ادا کر لینا چاہیے۔

صدقہ فطر کس پر واجب ہے اور کن افراد کی طرف سے واجب ہے ؟ہر وہ مسلمان جس کی ملکیت میں چیزوں (سونا،چاندی،نقدیرقم،مالت تجارت اور ضرورتسے زاید تمام اشیائ) میں سے کوئی ایک یا ان پانچوں کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے بقدرہو جائے ،خواہ اس نصاب پر پوراسال گزرا ہو ،تو اس پر اپنی طرف سے اور زیر کفالت نا بالغ بچوں کی طرف سے صد قہ فطرادا کرنا واجب ہے اور ایسے شخص کے لیے جو اس مذ کورہ نصاب کا مالک ہو زکوة ،صدقہ فطراور صدقات واجبہ لینا جائز نہیں ۔

اگر باپ نہ ہو یا تنگ دست ہو تو داداباپ کے قائم مقام ہو گا یعنی ا س پر وا جب ہوگا کہ اپنے نابالغ پوتے اور پوتوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرے ،اگر نا بالغ پوتے اور پوتیاں مال دار نہ ہوں اور اگر وہ مال دار ہوں تو ں ان کے مال سے ادا کرے گا ۔ مرد کے ذمے نابالغ اولاد کے علاوہ کسی اور رشتہ دار مثلابیوی ،بالغ اولاد ،بہن ،بھائی غرض کسی بھی دوسرے رشتے دار کی طرف سے صدقہ فطر ادا کرنا واجب نہیں اگر چہ اس کے زیر کفالت ہوں مثلا چھوٹے بھائی ،بہن وغیرہ ،البتہ بالغ اولاد اور بیوی کا فطرانہ ان سے اجازت لیے بغیر ادا کر دیا تو ادا ہو جائے گا بشرطیکہ بالغ اولاد اس کے عیال میں ہو۔اگر عورت خود صاحب نصاب ہو (جو کہ عموماً زیورات وغیرہ کی وجہ سے ہوتی ہے چاہے زیورات استعمال میں ہوں یا نہ ہوں ) تو صدقہ فطر ادا ئی کی خود ذمے دار ہے شوہر کے ذمے لازم نہیں ،تاہم اگر شوہر بیوی کی طرف سے ادا کرے تو صدقہ فطر اداہو جائے اور اگر عورت نصاب کی مالک نہیں تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ۔اگر کوئی مقروض ہو تو ان پانچوں قسم کے مال کی قیمت لگائے پھر اس میں سے قرض کی رقم نکال کر دیکھے اگر بقیہ رقم مذکورہ نصاب کے برابر ہے تو صدقہ فطر واجب ہو گا ورنہ واجب نہیں اور جو قرض دوسروں پر ہو اور اس کے ملنے کی امیدہو اسے بھی نقدرقم میں شمار کیا جائے گا ۔جن لوگوں سفر یا بیماری کی وجہ سے یا ویسے ہی غفلت کی وجہ سے روزے نہیں رکھے، صدقہ فطران پر بھی واجب ہے اگر وہ صاحب نصاب ہیں ۔جو بچہ عید کی رات صبح صادق سے پہلے پیدا ہو اس کا صدقہ فطرلازم ہے اور جو عید کی را ت صبح صادق سے پہلے مرگیا تو اس کا صدقہ لازم نہیں ۔ماں کے ذمے بچوں کا صدقہ فطر لازم نہیں ،خواہ ماں ما ل دار ہی کیو ں نہ ہو ۔ صدقہ فطر کے واجب ہونے کا وقت اگر چہ عید کے دن کا صبح صادق ہے لیکن اگر کوئی اس سے پہلے رمضان میں پیشگی دیدے تببھی ادا ہوجاتا ہے ۔اگر کسی نے نہ رمضان میںادا کیا اور نہ عید کے دن تو بعد میں بھی ادا کرنا ذمے میں واجب رہے گا معاف نہیں ہوگا خواہ کتنا ہی زمانہ گز رجائے،عمر بھر یہ واجب اس کے ذمہ میں رہے گا اور عید کے دن سے تا خیر کرنا مکروہ تنزیہی۔تا خیر ہونے پر استغفار کرنا چاہیے۔

صدقہ فطر کن چیزوں سے ادا ہو گا اور ان کی واجب مقدار

احادیث میں صدقہ فطر وزن کے اعتبار سے چار قسم کی چیزوں سے ادا کرنے کا ذکر ملتا ہے۔ایک کشمش سے ،دوسرے چھوارے سے ،تیسرے ”جو“سے اور چوتھے گندم سے ۔ان میں سے کسی بھی ایک چیز کو بعینہ یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت کو ادا کرنا درست ہے ۔گندم میں صدقہ فطرکی مقدار پونے دو کلوگندم (احتیاطادو کلوگندم) یا اس کی قیمت ہے اور جو، کشمش اور کھجور کے ان تینوں کے ا عتبار سے سا ڑھے تین کلو یا ان میں سے کسی ایک کی قیمت ۔مذکورہ چار اشیاءمیں سے جس چیز کے ساتھ کوئی صدقہ فطر ادا کرنا چاہتا ہے اور وہ چیز اعلی اور ادنی ہو نے کے لحاظ سے مختلف مالیت کی ہے تو بہتر یہ ہے کہ اعلیٰ یا درمیانے درجے کی چیز یا اس کی قیمت کے اعتبار سے صدقہ فطر ادا کرے لیکن اگر ادنی قسم کی قیمت کے اعتبار سے ادا کیا جائے تو اس کی بھی گنجائش ہے (فتاوی محمود یہ) عام طور پر یہ سمجھاجا تا ہے کہ صدقہ فطر صرف گندم کے ساتھ خاص ہے۔باقی تین چیزوں کا علم بھی نہیں ہوتا حالاں کہ جن لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے وسعت اور توفیق دی ہے ان کو چاہیے کہ وہ ان چار چیزوں میں سے جو چیز مالیت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ ہو اس کے ساتھ صدقہ فطر ادا کریں تا کہ غریب کی حاجت بھی پوری ہو اور اس کو خوب ثواب حاصل بھی ہو ۔اگر کوئی شخص قیمت سے صدقہ فطر ادا کرنا چاہتا ہے تو جہاں وہ شخص رہتا ہے وہیں کے اعتبار سے قیمت کا لحاظ ہو گا ااور اگر وہ خود کسی اور جگہ رہتا ہے اور وہ دوسری جگہ اس رقم کو بھیجنا چاہتا ہے اور دونو ں جگہوں کی قیمت میں فرق ہے تو افضل یہ ہے کہ جس جگہ کی قیمت کا معیار زیادہ ہو اس لحاظ سے ادا کیا جائے اگر چہ اس بات کی بھی گنجائش ہے کہ وہ کسی بھی مقام کے اعتبار سے ادائی کر دے(کما فی امداد الا حکام ، فتا ویٰ محمو دیہ )۔

صدقہ فطر کن لو گو ں کو دیا جا ئے ؟

صدقہ فطر کو اس کے صحیح شر عی مصرف میں لگا نا صدقہ فطر ادا کر نے والے کی شرعی ذمے داری ہے۔ صدقہ فطر صرف ان غر یبوںکو دیا جا سکتا ہے جنہیں زکوة د ینا درست ہو یعنی جس کی ملکیت میں سا ڑ ھے با و ن تو لہ چا ندی یا اس کی ما لیت کے برا بر سو نا، چاندی،نقدی رقم، مال تجارت ،اور ضرو رت سے زیا دہ سا مان نہ ہو تو اسے صدقہ فطر دیا جا سکتا ہے جن لو گو ں سے یہ پیدا ہوا جیسے ما ں ،با پ ، دادی،دادا، نانا،نانی اور اسی طرح جو اس کی او لاد ہیں جیسے بیٹا ،بیٹی، پو تا ،پو تی نوا سہ، نوا سی وغیرہ ان کو صدقہ فطر دینا جا ئز نہیں ،اسی طرح بیوی شوہر کو اور شوہر بیوی کو نہیں دے سکتا ۔ ان کے علا وہ با قی سب رشتہ دا روں کو دیا جا سکتا ہے جب کہ وہ مستحق ہوں ایک آدمی کا صدقہ فطر کئی غریبوں کو اور کئی آدمیوں کا فطرانہ ایک غریب کو دینا جا ئز ہے ۔ مستحق غریب رشتے دار کو دینے کا دو ہرا ثواب ملتا ہے ایک صلہ رحمی کا اور دو سرا ادا ئی کا ۔ زکوة اور دو سرے وا جبات کی طرح اس صدقہ کے ادا ہو نے کے لےے ضروری ہے کہ کسی غریب کو ما لکا نہ طور پر دیا جا ئے چنا نچہ مسجد ،مد رسہ ،شفا خا نہ ، کنو یں ،پل یا کسی اور فاہی ادارے کی تعمیر میں خرچ کر نا جا ئز نہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں