سحر و افطار کی برکات

سحر و افطار کی برکات

”قیام اللیل کے لۓ دو پہر کے قیلوے سے قوت حاصل کرو اور دن کو روزہ رکھنے کے لےے سحری کھانے سے قوت حا صل کیا کرو “

عبدالقادر شیخ

ہما را دین زندگی کے ہر شعبے میں نظم وضبط کا اچھو تا پروگرام پیش کر تا ہے، جو یک ساں طور پر اس کے ہر پیرو کار پر لا گو ہوتا ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کو ہی دیکھ لیجےے کہ کیسا منظّم پرو گرام ان کے کےے پیش کیا ۔روزہ رکھنے کے ارادے سے صبح صادق سے پہلے جو کھایا پیا جا تا ہے اس کو سحری کہتے ہیں ۔سحری کھانا سنت ہے۔ نبی اکرم ﷺخود بھی سحری تناول فر ما تے تھے اور صحابہ کرام کو بھی اس کا اہتمام کرنے کی تا کید فر ما تے تھے ۔ سحر کے وقت کھا نے اور پینے کا ذکر بھی قرآن حکیم میں مو جو د ہے ” تم کھا تے اور پیتے رہو یہاں تک کہ صبح کا سفید دھا گہ سیاہ دھا گے سے ظاہر ہو جا ئے اور پھر رات تک روزے کو پو رہ کرو ۔“(سو رہ البقرة) سحری کھا نے کی کیا حکمت ہے اس کے با رے میں آپ کا ارشا د گرا می ہے”ہما رے اور اہل کتاب کے رو زے میں یہی فرق ہے کہ ہم سحری کھا تے ہیں اور وہ سحری نہیں کرتے۔“(صحیح مسلم ) ایک اور حدیث میں فر ما یاکہ” سحری کھا یا کرو اس لےے کہ سحری کھا نے میں بر کت ہے۔“(صحیح بخاری و مسلم ) ایک اورمقام پر آپ نے ارشاد فرما یا ”قیا م اللیل کے لےے دو پہر کے قیلو لے سے قوت حاصل کرو اور دن کو روزہ رکھنے کے لےے سحری کھا نے سے قوت حاصل کیا کرو۔“(ابن ما جہ)۔

سحری کھا نا مو جب اجر و ثواب ہے اور قرآن و حدیث کا منشا بھی یہی ہے ۔ایک حد یث میں آ یا ہے کہ ”سحری کھا نا سرا سر بر کت ہے پس سحری کھا نا نہ چھو ڑنا خواہ پا نی کا ایک گھو نٹ ہی ہو، سحری کھا نے وا لو ں پر حق تعا لیٰ بر کت فر ما تا ہے اور فر شتے ان کے لےے استضفار کر تے ہیں ۔“ (التر غیب)۔

جس طرح سحری سے متعلق اسلام کی ہدا یت پر عمل کیا جا تا ہے ٹھیک اسی طرح افطار میں بھی ہمیںاس کا مکلف بنا یا گیا ہے۔کو ئی بھی ذی شعور شخص غروب آفتاب سے ایک منٹ قبل بھی افطار نہیں کر سکتا اور نہ ہی شک کی بنا پر اپنے روزے کو اتنا طول دے سکتا ہے کہ وہ اپنے روزے میں خلل پیدا کرے ۔جس کا مطلب یہ ہو گا کہ اس نے اپنے وضع کر دہ قا نو ن پر عمل کیا اور اسلا می نظم و ضبط کو پس پشت رکھا۔دن بھر کے کام کاج اور روزے کی مشقت کے بعد غروب آفتاب کے وقت جو افطار کا مو قع ہو تا ہے ،اس کی حا لت قا بل دید ہو تی ہے اس کے چہرے سے صبر و تسکین کا اظہار ہو رہا ہو تا ہے ،عجیب سی طما نیت محسو س ہو تی ہے اور پھر ایسے میں وہ اپنے رب کا شکربجا لا تے ہو ئے کو کچھ حلال رزق اس کے پاس ہو تا افطار کرتا ہے ۔افطار عر بی لفظ ہے جو ف طَ رَ سے بنا ہے جس کے معنی روزہ افطار کر انا اور فِ ط رَ رَوزے کی افطاری ہے۔

جس طرح سحری کر نے میں تا خیر سنت ہے اسی طرح افطا ر میں تعجیل مستحب ہے ۔ تعجیل کا مطلب یہ ہے کہ آفتاب غروب ہو نے کے بعد احتیاط کے خیال سے تا خیر کر نا منا سب نہیں بل کے فو راًہی افطار مستحب ہے۔ فقہ اسلا می کے مصنف محمد یو سف اصلاحی لکھتے ہیں کہ” اس طرح کی غیر ضرو ری احتیاط اور غیر مطلوب تقویٰ کے اظہار سے دینی مزاج بگڑ جا تا ہے اس لےے کہ د ین کھانے پینے سے رکنے نفس کو مشقتوں میں ڈالنے اور تکلیف اتھانے کا نام نہیں ہے بلکہ خدا کی بے چوں و چراا طا عت کرنے کا نام ہے۔“

کھجور سے روزہ افطار کر نا افضل اور مستحب ہے۔ اگر یہ میسر نہ ہو تو پا نی سے بھی مستحب ہے لیکن ان اشیا کو اپنے تئیں فرض کر لینا دین میں غلوہے اور کسی دو سری شے سے روزہ افطار کرنے کو غیر م تقیا نہ قرار دینے سے گریز کر نا چا ہیے ۔ یہ درست ہے کہ آنحضور ﷺنے خود بھی انہی اشیاسے روزہ افطار فر ما یا اور صحابہءکرامؓکو بھی ان ہی اشیاءکی تر غیب دی تھی ۔ جس کی مصلحت یہ تھی کہ کھجور عرب کی سر زمین پر ہرامیر و غریب کو بہ آسا نی میسر تھی اور رہا پانی تو وہ بہ آسانی دست یاب ہے ۔ اس لےے بر وقت جو بھی شے مل جا ئے اسی سے روزہ افطار کر لیا جا ئے ۔

افطار کرانا بھی پسند یدعمل ہے چا ہے ایک کھجور سے ہی سہی ۔ آپ نے فر ما یا ” جس شخص نے روزہ دار کو افطار کرا یا یا کسی مجا ہد کو جہاد کے لےے سا مان دیا تو اس کو روزہ دار اور مجا ہد کی طرح اجر و ثواب ملے گا۔“ (بیہقی) اللہ ہمیں اسلام پر نبی اکرم ﷺکے طریق کے مطا بق عمل کی تو فیق عطا فر ما ئے۔ آمین ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں