ایصال ثواب کی حقیقت

انسان کے بنیادی اعمال وہی ہیں جو وہ اپنی زندگی میں خود کرتا ہے۔ انہی پر اس کی نجات کا دارومدار ہوتا ہے۔ صدقہ جاریہ یا گناہ جاریہ دراصل اس کے اعمال کا تسلسل ہی ہوتے ہیں۔ اولاد بھی نسل کے تسلسل کی طرح اس کے تربیتی عمل کا تسلسل ہوتی ہے۔ بنیادی اعمال انسان خود کرکے دنیا سے جاتا ہے اور اس کے اعمال کے اثرات اس کے مرنے کے بعد بھی اس تک پہنچتے رہتے ہیں۔ یہ اثرات ثواب کی صورت میں یعنی مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور منفی بھی۔انسان کے جاری اعمال کے اثرات موت کے بعد بھی ضرور اس تک پہنچ کر رہتے ہیں۔ یہ بات قرآن مجید میں سورہ انفطار میں ان الفاظ کے ساتھ بیان کی گئی ہے۔

ترجمہ: ہر شخص یہ جان لے گا کہ اس نے کیا آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا۔ (سورہ انفطار)
یہاں ایصال ثواب کی اس صورت پر بحث کی جائے گی جو عوام میں مقبول ہے۔ یعنی کسی شخص کے مرنے کے بعد وہ ثواب جو اس کے ورثاء اس کو صدقہ و خیرات یا تلاوت و اذکار کے ذریعے بھیجتے ہیں۔میرا موضوع یہ بالکل نہیں ہے کہ اس بات پر بحث کی جائے کہ دوسروں کا ارسال کردہ ثواب میت تک پہنچتا ہے کہ نہیں۔ اور نہ ہی یہ کہ ایصال ثواب کے جائز ذرائع کون کون سے ہیں۔ بلکہ میرا مقصد انسان کے زندگی میں اپنے بنیادی اعمال کی قدر و قیمت اور موت کے بعد دوسروں کے ارسال کردہ ثواب کا موازنہ کرنا ہے۔عوام الناس ایصال ثواب کو اس قدر اہمیت دیتے ہیں کہ ان کی ویلیو اپنی زندگی کے بنیادی اعمال سے ہی بڑھا دیتے ہیں۔ حالانکہ موت کے بعد دوسروں کا ارسال کردہ ثواب اپنے اعمال کے مقابلے میں نہایت معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی حیثیت اصل اعمال کے مقابلے میں محض رعایتی نمبروں کی سی ہے۔
یاد رہے کہ میں موت کے بعد دعا اور صدقہ و خیرات کے ذریعے ترسیل ثواب کا منکر ہر گز نہیں۔ اور نہ ہی یہ چاہتا ہوں کہ کسی کے مرنے کے بعد اس کے لیے کچھ نہ کیا جائے۔ بلکہ میری یہ تحریر زندہ لوگوں کو اس بات سے ڈرانے کے لیے ہے کہ کہیں دوسروں کےثواب کی امید پر اپنی زندگی کو بے کار نہ گزار دیں۔ اللہ نے انسان کو زندگی دی ہی اسی لیے ہے کہ وہ اسے آزمائے کہ اچھے عمل کرتا ہے یا برے۔ ایسا ہر گز ممکن نہیں کہ ایک انسان اپنی ساری زندگی اللہ کی اطاعت میں گزارے اور اللہ اسے محض اس وجہ سے جہنم میں ڈال دے کہ اس کے لیے کسی نے موت کے بعد ایصال ثواب نہیں کیا۔ اور نہ ہی اللہ کسی فاسق و فاجر انسان کو محض دعا اور ایصال ثواب کے ذریعے بخشے گا۔ یہ بات قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ اللہ نے مشرکین کے حق میں پیغمبروں کی دعا کو بھی قبول نہیں کیا۔نجات کی صورت یہی ہے کہ ایک انسان اپنی زندگی میں اللہ کی فرمانبرداری کرے۔ اور اگر زندگی میں کوشش کے باوجود کوئی لغزش رہ گئی تو اسے اللہ اپنی رحمت سے معاف فرما دے گا۔چاہے کوئی اس کے لیے دعا کرے یا نہ کرے۔لیکن اگر ایک انسان کی زندگی کا مشن اللہ کے حکم کی مخالفت اور نافرمانی تھی تو مرنے کے بعد دوسروں کی طرف سے کی جانے والی دعائیں یا صدقہ و خیرات اسے کوئی نفع نہیں پہنچا سکیں گے۔ یا اگر معمولی فائدہ ملے گا بھی تو عذاب قبر سے رعایت کی حد تک ہی ہو گا۔ قیامت کے دن اس کا مقدر جہنم ہی ہو گی۔
جیسے ہم موبائل یا کمپیوٹر میں گیم کھیلتے ہوئے کم سےکم وقت اور پوائنٹس کا استعمال کرتے ہوئے ایسے ٹاسک پورے کرتے ہیں جن سے زیادہ سے زیادہ اسکور مل سکے۔ اسی طرح ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ یہ زندگی بھی ایک گیم کی مانند ہے۔ یہاں ملنے والے زندگی کے لمحات ہی وہ پوائنٹس ہیں جن کو استعمال کرکے ہم نے اپنے دیے گئے ٹاسک مکمل کرنے ہیں تاکہ ہمارا بنایا ہوا اسکور ہمیں دنیا کے بعد آخرت کی زندگی میں کام دے سکے۔ ایک انسان کو زیادہ سے زیادہ نیک اعمال خود اپنی زندگی میں کرنے چاہییں۔ اور بہت سے ایسے منصوبے اور اعمال بھی کرنے چاہییں جو ہماری موت کے بعد بھی جاری رہیں اور ان کا نفع ہمیں موت کے بعد بھی ملتا رہے۔نیک اولاد چاہے وہ آپ کے لیے خصوصی طور پر دعا کا اہتمام کرے یا نہ کرےاس کے اچھے اعمال میں سے آپ کو مسلسل حصہ پہنچتا رہتا ہے۔ نافع علم جس سے لوگ فائدہ اٹھائیں بھی صدقہ جاریہ ہے۔ فلاح عامہ کے سارے کام صدقہ جاریہ ہیں۔
رہی بات موت کے بعد دوسروں کے صدقہ و خیرات یا تلاوت و اذکار کی، تو اس کی حیثیت ضمنی ہے۔ کوئی انسان نہیں جانتا کہ اس کی موت کس حال میں واقع ہو گی۔ اولاد ، عزیز و اقارب، دوست و احباب اس کے لیے ایصال ثواب و دعا تو درکنار یاد بھی رکھیں گے یا نہیں۔ آج ہم اپنے کتنے ہی مرحوم عزیزوں اور دوستوں کو باقاعدگی سے یاد رکھے ہوئے ہیں۔ آج مرے کل دوسرا دن کے مصداق عام لوگ تو چند دن میں ہی بھول جاتے ہیں۔ دوست و عزیز چند ہفتوں میں اور اولاد چند ماہ و سال میں بھول جاتی ہے۔ اور اگر اولاد اپنی زندگی میں یاد بھی رکھے تو اولاد کی موت کے بعد تو انسان کا نام بھی اکثر مٹ جاتا ہے۔کون ہو گا جو انسان کو قیامت کی صبح تک یاد رکھے گا ؟ یہ اس کے اپنے وہی اعمال ہوں گے جو اس نے اپنی زندگی میں خود کیے ہوں گے۔دوسروں سے رکھی گئی امیدیں ایک دھوکے کے سوا کچھ نہیں ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں