آدم علیہ السلام کو جنت سے کیوں نکالا گیا؟

اکثر لوگ یہ گمان رکھتے ہیں کہ آدم علیہ السلام کو ان کی غلطی کی وجہ سے جنت سے نکال باہر کیا گیا. اگر وہ غلطی نہ کرتے تو ہم سب آج جنت میں ہوتے. دوسرے لفظوں میں ساری اولاد آدم اپنے باپ کی غلطی کی سزا جنت سے دور رہ کر بھگت رہی ہے.
قرآن مجید کے مطابق ایسی سوچ درست نہیں ہے. آدم سے غلطی ضرور ہوئی لیکن وہ صرف غلطی کی وجہ سے جنت سے زمین پر نہیں اتارے گئے.
سورہ البقرہ آیت ۳۰ سے ۳۹ تک پورے قصے کا خلاصہ بیان کیا ہے. جبکہ تفصیل مختلف مقامات پر درج ہے.
تخلیق آدم سے پہلے اللہ نے فرشتوں کو جمع کرکے کہا ؛
انی جاعل فی الارض خلیفۃ
ترجمہ: میں زمین میں ایک نائب بنانے والا ہوں.
یعنی زمین پر بھیجنے کا منصوبہ تخلیق سے پہلے کا ہے. اور زمین پر نیابت کا منصب ہی تخلیق انسانی کی اصل وجہ ہے.
شیطان کا بہکاوا اور غلطی دراصل ایک کنٹرولڈ ڈیمانسٹریشن تھی. جس سے آدم کو یہ بتانا مقصود تھا کہ تمہاری زمین پر ذمہ داری کے دوران شیطان تمہیں قدم قدم پر بہکائے گا.
غلطی کی معافی کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے.
فتلقی آدم من ربه کلمت فتاب علیہ
یعنی آدم نے رب کے سکھلائے ہوئے الفاظ کی مدد سے اس کی طرف رجوع کیا تو اللہ نے اسے معاف کر دیا. اگر جنت سے نکالا جانا محض غلطی کی وجہ سے ہوتا تو معافی کے بعد واپس بلا لیا جاتا. لیکن دراصل زمین پر اتارنے کا مقصد کچھ اور تھا.
اس سے آگے قرآن نے زمین پر بھیجنے کا اصل مقصد بیان کیا ہے کہ تم سب یہاں سے اتر جاؤ. جب میری ہدایت تم تک پہنچے تو جو ہدایت کی پیروی کرے گا اسے کوئی خوف اور غم نہ ہو گا. اور جو اللہ کی آیات کا کفر اور تکذیب کریں گے وہ آگ میں جائیں گے اور اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے.
یہی تصور دراصل انی جاعل فی الارض خلیفۃ سے میچ کرتا ہے.

اپنا تبصرہ بھیجیں